{"product_id":"paris-mein-ek-din-by-mustansar-hussain-tarar","title":"Paris Mein Ek Din By Mustansar Hussain Tarar","description":"\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eاوراِک دن کسی دیارمیں..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003e تو کون سے دیار میں صرف اِک دن..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003e پیرس کے دیار میں.. وہ ایک دن بھی پوری حیات پر محیط ہوسکتا ہے اگراُس کے ہر لمحے میں، ذہن میں معدوم ہوچکی یادوں کے بے شمار بجھے ہوئے چراغ ہوں.. زمانوں کی ُتند ہوائوں نے ایک ایک کرکے سب چراغ بجھا دیئے، ُکچھ جن میں دیوانگیٔ سفر کا تیل جلتا تھا وہ بجھ گئے کہ تیل کہاں تک جلتا، تراسّی برس کی ُعمر تک کیسے جلتا،تو چلو پیار کے پہلے شہر میں چلتے ہیں، کیا پتااُن کب کے بجھ چکے چراغوں میں سے کوئی ایک آتش شوق سے جل اٹھے اوراُس کی مدھم َلو میں کوئی چہرہ جھلکنے لگے جو کب کا ُبھول چکا،اور اُس چہرے پر بھی زمانوں کی دُھول جمی ہو، ساٹھ برس سے زیادہ کی دُھول.. وہ شنا سا تو لگے پر پہچانا نہ جائے..اتنے عرصے گزر گئے، بے انت برس بیت گئے، یہ برس اور عرصے کب کے حائل ہوچکے چراغوں کی مانند بجھ چکی یادداشت کی گہری دُھند میں.. گمان ہوتا ہے کہ وہ چہرہ کبھی تھا ہی نہیں، اُس کا وجود میرے ذہن کا فتور ہے، میں نے جب اُسے لکھا تو ایک فریب اور سراب میں مبتلا ہوکر لکھا، خود ہی حرفوں سے ایک وینس ڈی میلو ایسا چہرہ اور بدن اپنے تصوّر سے تراش لیا ورنہ وہ تھا ہی نہیں،اُس آتش شوق سے جل اٹھنے والے چراغ کی َلو میں اُس دُھندلے پڑتے چہرے کے پس منظر میں ایک شہر تھا جو ریت کی دیواروں سے بنا تھا .شہر تو نہ تھا اُس کے شائبے تھے کہ ریت کی دیواریں کب کی، وقت کی بے رحم بارشوں سے مسمار ہوچکی تھیں.\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eاور وہ شہر پیرس تھا..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eجیسے بسنت میں، بہار میں، خمار میں، بے انت میں ایک دن، ایسے پیرس میں بھی ایک دن.. بس ایک دن..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eکیا پیرس میں بسر کئے جانے والے صرف ایک دن کی روئداد کے بارے میں ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے..؟\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003e اگرآئیون ڈنسوچ کی زندگی کے ایک دن کے بارے میں سولزےنتسن ایک ناولٹ لکھ سکتا ہے..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eاگر جیمز جوائس ڈبلن کے ایک دن کے بارے میں اس صدی کے بڑے ناولوں میں سے ایک ’’یولیسس‘‘ لکھ سکتا ہے..\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003e تو پھر پیرس تو پیرس ہے..اگرچہ میں سولزے نتسن یا جیمز جوائس تو نہیں ہوں لیکن میرے پاس ایک کب کے بجھ چکے چراغ کے جل اٹھنے کا امکان تو ہے..ـ پیرس میں ایک دن\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eکہا ہے کس نے کہ غالبؔ ُبرا نہیں، لیکن\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"font-family: 'noto nastaliq urdu'; line-height: 2.5em; text-align: right;\"\u003eسوائے اس کے کہ آشفتہ سر ہے، کیا کہئے\u003c\/p\u003e\n\u003cp style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cbr\u003e\u003cbr\u003eTitle: Paris Mein Ek Din - پیرس میں ایک دن\u003cbr\u003eAuthor: Mustansar Hussain Tarar - مستنصر حسین تارڑ\u003cbr\u003eSubject: Travelogue, Safarnama - سفرنامہ\u003cbr\u003eISBN: 9693536827\u003cbr\u003eLanguage: Urdu \u003cbr\u003eNumber of Pages: 208\u003cbr\u003eYear of Publication: 2025\u003c\/p\u003e\n\u003cp\u003e \u003c\/p\u003e","brand":"Sang-e-Meel Publications","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":68036643553363,"sku":null,"price":1400.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0639\/9144\/7635\/files\/ParisMeinEkDin-MustansarHussainTarar-Frontcover.jpg?v=1793898133","url":"https:\/\/sultanislamicbook.com\/products\/paris-mein-ek-din-by-mustansar-hussain-tarar","provider":"Maktaba Sultan e Alamgir","version":"1.0","type":"link"}